Thursday, 08 January 2026
  1. ہوم/
  2. کالمز/
  3. سائرس یا ذوالقرنین

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی، فرش کے بعد پتھروں کے چھ سٹیپس تھے، ان کے اوپر چکور کمرہ تھا اور اس کی چھت اہرام مصر کی طرح سلوپ میں تھی، عمارت کے بعد چاروں طرف میدان تھا، دور پہاڑوں تک راستے میں کوئی چیز حائل نہیں تھی، سائرس کا مقبرہ پسرگارد کے جنوبی دروازے کے ساتھ ہوتا تھا، ماضی میں اس عمارت پر وسیع چھت ہوتی تھی، چھت کے 24 ستونوں کے آثار ابھی تک موجود ہیں۔

کیا یہ مقبرہ واقعی سائرس کا ہے؟ اس کی پہلی دلیل سٹرابو (Strabo) ہے، وہ یونانی مورخ تھا اور دنیا میں الیگزینڈر دی گریٹ کے بارے میں جتنا لٹریچر موجود ہے اس کا حوالہ سٹرابو ہے، وہ 63 قبل مسیح میں آج کے ترکیہ میں پیدا ہوا اور اس نے اپنی زندگی سکندر اعظم پر ریسرچ پر لگا دی، اس نے سائرس کے اس مقبرے کے بارے میں لکھا، سکندر اعظم پرسی پولس (اس کا ذکر آگے آئے گا) کی فتح اور تباہی کے بعد پسر گارد گیا، وہاں اس نے سائرس کا مقبرہ دیکھا، اس نے اپنے جنرل ایری سٹابولس (Aristabulus) کو اندر داخل ہونے کا حکم دیا، جنرل اندرگیا اور اس نے باہر آ کر بتایا مقبرے کے اندر سونے کا پلنگ، سونے کی میز اور اس پر شراب کے ظروف پڑے ہیں، ان کے ساتھ سونے کا تابوت ہے اور زیورات رکھے ہیں۔

جنرل نے یہ بھی بتایا مقبرے پر سائرس کی عبارت بھی تحریر ہے، سکندر نے اس کے بعد مقبرے کا دروازہ بند کرا دیا، سائرس کو سلیوٹ کیا اور آگے نکل گیا، وہ جب دوسری بار پسرگارد سے گزرا تو اس وقت تک مقبرہ لوٹا جا چکا تھا، سونے کا پلنگ، تابوت، ٹیبل اور ظروف غائب تھے، سکندر کو بہت افسوس ہوا اور وہ دنیا کی بے ثباتی کا ماتم کرتا ہوا آگے نکل گیا، سٹرابو کی تحریر کے بعد یہ مقام تقریباً ہزار سال تک تاریخ کے گم نام گوشوں میں خاموش پڑا رہا، حضرت عمر فاروقؓ کے دور میں ایران فتح ہوا تو یہ مقبرہ مختلف اوقات میں مختلف شخصیات کے نام منسوب ہوتا رہا، یہودیوں نے اسے بنت شیبا کا مقبرہ قرار دے دیا۔

شیبا بنی اسرائیل کا اہم کردار تھی، یہ حضرت دائودؑ کی بیگم اور ان کے پانچ بچوں کی ماں تھی، ان بچوں میں حضرت سلیمانؑ بھی شامل ہیں، عبرانی زبان میں اسے باتھ شیبا (Bathsheba) لکھا جاتا ہے، یہ حضرت دائودؑ کے سپہ سالار اوریا (پاکستان کے مشہور کالم نویس اور شاعر اوریا مقبول جان کا نام اسی جنرل کے نام پر ہے) کی بیوی تھی۔

بائبل کے مطابق حضرت دائودؑ نے اسے نہاتے ہوئے دیکھ لیا اور اپنا دل ہار بیٹھے، اوریا کو جنگ میں بھجوا دیا گیا جس میں اس کی موت ہوگئی اور اس کے بعد حضرت دائودؑ نے بنت شیبا سے شادی کر لی، ان کے بطن سے حضرت سلیمانؑ سمیت پانچ بیٹے پیدا ہوئے، حضرت سلیمانؑ حضرت دائودؑ کے بعد اسرائیل کے بادشاہ اور نبی بنے، بنی اسرائیل سائرس کے مقبرے کو بنت شیبا اور سلیمانؑ کی والدہ کا مزار کہتے رہے۔

یہ بعدازاں سلیمان کی والدہ کی وجہ سے اموی خلیفہ سلمان بن عبدالمالک کی والدہ کا مقبرہ بن گیا یہاں تک کہ 1811ء میں برطانوی سفارت کار اور مصنف جیمز جسٹینن مورئیر (James Justinian Morier) نے اس پر تحقیق شروع کی اور تاریخی حوالوں سے اسے سائرس کا مقبرہ ثابت کر دیا، مورئیر 1782ء میں ترکی کے شہر سمرنا میں پیدا ہوا تھا، وہ جوانی میں ایران آیا اور اس کی محبت میں گرفتار ہوگیا، اس نے بعدازاں ایڈونچر آف حاجی بابا آف اصفہان اور قاچار ڈائینسٹی آف ایران جیسی کتابیں لکھیں، اس کی تحقیق نے سائرس کو اس کا مقبرہ لوٹا دیا، ماڈرن دور آیا تو سائنسی تحقیق نے مورئیر کو سچا ثابت کر دیا۔

پسرگارد قدیم ترین ایرانی سلطنت کا دارالحکومت تھا، یہ ایک طویل و عریض اور اس زمانے کا ماڈرن اور خوش حال شہر تھا، شہر مکمل طور پر ختم ہوگیا لیکن سائرس کا مقبرہ باقی رہ گیا، کیوں؟ اس کی دو وجوہات ہیں، پہلی وجہ انجینئرنگ ہے، یہ مصر کے اہراموں کے بعد دنیا کی پہلی اور قدیم ترین زلزلہ پروف عمارت تھی، یہ انجینئرنگ کی ٹرم میں "بیس آئیسولیٹڈ" بلڈنگ تھی چناں چہ یہ اڑھائی ہزار سال میں تمام زلزلوں کی مار سہہ گئی، تحقیق نے یہ بھی ثابت کیا پورے خطے میں اس نوعیت کی کوئی دوسری عمارت موجود نہیں گویا اس کے لیے ماہرین باہر سے منگوائے گئے تھے اور یہ اس زمانے میں صرف سائرس ہی کر سکتا تھا۔

عمارت 43 اعشاریہ 8فٹ لمبی اور 40فٹ چوڑی ہے، یہ تین حصوں میں بنائی گئی تھی، پہلے بھاری پتھروں کی چھ تہیں جمائی گئیں، ہر تہہ پہلی تہہ سے دو فٹ چھوٹی تھی یوں عمارت کے چاروں طرف سیڑھیاں سی بن گئیں، چھٹی تہہ کے اوپر مقبرے کی عمارت بنائی گئی اور اس کے اوپر اہرام مصر جیسی چھت جمادی گئی، عمارت کی پشت پر اندر داخل ہونے کا چھوٹا سا دروازہ تھا، مقبرے کی ٹوٹل بلندی 36فٹ تھی اور اس کے دائیں بائیں پتھر کے 24 ستون کھڑے کرکے ان پر لکڑی کی چھت ڈال دی گئی لیکن وہ چھت اور ستون وقت برد ہو چکے ہیں تاہم مقبرہ اپنی انجینئرنگ کی وجہ سے سلامت ہے۔

دوسری وجہ حضرت ذوالقرنین ہیں، بے شمار مؤرخین نے سائرس کو ذوالقرنین لکھا اور سمجھا، اس کی دلیل میں سائرس کی وسیع سلطنت، فوجی مہمات اور وال آف گورگان کی مثال دی جاتی ہے، ہم فرض کرلیتے ہیں یہ تحقیق درست ہے اور سائرس ہی حضرت ذوالقرنین ہیں تو پھر مسئلہ حل ہوگیا، اللہ تعالیٰ لازوال ہے چناں چہ جب بھی کوئی شخص یا چیز اللہ تعالیٰ کی ذات سے منسلک ہو جاتی ہے تو وہ بھی لازوال ہو جاتی ہے۔

حضرت ذوالقرنین بھی اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ جڑ گئے تھے لہٰذا پھر حادثے یا طالع آزما اللہ تعالیٰ کی نشانی کو کیسے مٹا سکتے تھے؟ اور یہ وہ وجہ ہے جس کی بنیاد پرپسرگارد کی تباہی کے باوجود سائرس کا مقبرہ سلامت رہا اور یہ آج بھی سلامت ہے۔ یہ پورا علاقہ قدیم زمانے میں فارس کہلاتا تھا، یہ آج بھی صوبہ فارس ہے اور شیراز اس کا دارالحکومت ہے، یونانیوں نے اسے پرشیا کہاجس کی وجہ سے پورا ملک فارس یا پرشیا ہوگیا، پہلوی بادشاہ رضاشاہ نے1935ء میں فارس یا پرشیا کو ایران ڈکلیئر کر دیا، ایران کا لفظ آرین سے لیا گیا، زمانہ قدیم میں آرین کے تین قبائل کیسپیئن سی کے کنارے آباد تھے، وہ کسی آفت کی وجہ سے اپنا علاقہ چھوڑنے پر مجبور ہو گئے، ان میں سے ایک قبیلہ یورپ چلا گیا اور مختلف علاقوں میں اپنی حکومتیں قائم کر لیں۔

جرمن قوم بھی خود کو آرین کہتی ہے، دوسرا قبیلہ ایران، ترکیہ، ازبکستان اور تاجکستان میں آباد ہوگیا جب کہ تیسرا قبیلہ کوہ ہندوکش عبور کرکے ہندوستان آ گیا، رضاشاہ پہلوی نے اس قبیلے کی مناسبت سے فارس کو ایران ڈکلیئر کر دیا اور یہ اس وقت سے ایران بولا اور لکھا جاتا ہے لیکن یہ اڑھائی ہزار سال بعد کی باتیں ہیں، یہ علاقہ اڑھائی ہزار سال قبل پرشیا تھا اور اس کا سب سے بڑا بادشاہ سائرس تھا اور ہم اس وقت سائرس کے مقبرے کے سامنے کھڑے تھے، ہوا میں بے انتہا خنکی تھی، ہاتھ اور سر ننگا کرنا ممکن نہیں تھا، ہم نے مقبرے کے گرد چکر لگایا، سائرس کو سلام کیا اور بس میں واپس آ گئے۔

ہماری اگلی منزل نقش رستم تھا، یونانیوں نے اسے نیکرو پولس (Necropolis) کا نام دیا، یہ سائرس کے بعد ایران کے چار بڑے بادشاہوں کے مقبرے ہیں، یہ مقبرے اور یہ جگہ واقعی حیران کن ہے، ہم ایک گھنٹے بعد نیکرو پولس پہنچے اور سڑک کے کنارے کھڑے ہو کر حیرت سے نقش رستم دیکھنے لگے، یہ مقابر اردن کے پیٹرا جیسے ہیں، سڑک کے کنارے سرخ پہاڑ ہیں، ان پہاڑوں کو کاٹ کر ان کے اندر غار بنائے گئے اور ان غاروں میں بادشاہوں کے طویل وعریض مقبرے بنائے گئے۔

مقبروں کے باقاعدہ طویل دروازے اور گزر گاہیں تھیں، یہ اہراموں سے ملتے جلتے تھے لیکن اہرام پتھر جوڑ کر میدان میں بنائے گئے تھے جب کہ نقش رستم پہاڑ کھود کر بنائے گئے، ان پر نقوش اور قدیم فارسی زبان میں احکامات بھی تحریر ہیں، انہیں دیکھ کر دل دہل جاتا ہے، چار مقبروں میں سے ابھی تک صرف دو کھولے جا سکے ہیں، پہلا مقبرہ داریوش اول اور دوسرا اس کے بیٹے زرزس (Xerxes) کا ہے، داریوش اول نے سائرس کے بعد اس کی سلطنت کو 23 ممالک تک پھیلا دیا، اس نے شیراز کے مضافات میں پرسی پولس کے نام سے دوسرا دارالحکومت بنایا اور یہ پسرگارد سے دس گنا بڑا اور شان دار تھا، اس کے بیٹے زرزس نے بھی سلطنت قائم رکھی۔

یہ سلطنت دو سو سال تک برقرار رہی لیکن پھر 333 قبل مسیح میں سکندر اعظم آیا، اس کی داریوش سوم(ہم اسے اردو میں دارا کہتے ہیں) سے جنگ ہوئی اور سکندر نے پرسی پولس اور پسرگارد مکمل تباہ کر دیا، سکندر دار یوش کی عزیز ترین ملکہ رخسانہ اور دونوں بیٹیوں سٹیٹیریا دوم اور ڈرائیپٹس کو بھی اٹھا کر لے گیا، داریوش نے بیوی کی واپسی کے لیے درجن بھر ناکام جنگیں لڑیں لیکن وہ آخر میں اپنے ہی سپاہیوں کے ہاتھوں 330 قبل مسیح میں مارا گیا، سکندر اس کا پیچھا کر رہا تھا، وہ بیکٹریا (یہ موجودہ شمالی ایران میں واقع تھا اور اسے فارسی میں باختریالکھا جاتا ہے)پہنچا تو اس نے دیکھا داریوش سوم کی لاش بے گوروکفن پڑی ہے اور اس پر چیلیں منڈلا رہی ہیں۔

سکندر کو اس پر بے تحاشا رحم آیا، اس نے اس کی لاش اٹھائی اورپرسی پولس(Persepolis)لے جا کر اسے عزت و احترام کے ساتھ دفن کر دیا، سکندر کا بیٹا الیگزینڈر چہارم آف میسڈون(Alexander IV of Macedon) رخسانہ کے بطن سے پیدا ہوا لیکن وقت کے ساتھ ساتھ سکندر اعظم کی نسل اور سلطنت دونوں نابود ہوگئیں اور پیچھے صرف کہانیاں رہ گئیں اور ہم ان کہانیوں کی کھوج میں بڑی تیزی سے پرسی پولس (Persepolis) کی طرف بڑھ رہے تھے، دنیا کی پہلی سپر پاور کے دارالحکومت پرسی پولس کی طرف۔

جاری ہے۔۔

بہ شُکریہ: جاوید چوہدری ڈاٹ کام