Sunday, 30 November 2025
  1. ہوم/
  2. کالمز/
  3. ایکسپریس کے بعد (1)

ایکسپریس کے بعد (1)

یہ سفر 1993ء میں شروع ہوا تھا۔ میں اس زمانے میں پاکستان اخبار میں سب ایڈیٹر تھا، اس دور میں اخبارات کے تین ایڈیشن نکلتے تھے، پہلا ایڈیشن دور دراز علاقوں کے لیے ہوتا تھا، ہم کیوں کہ اسلام آباد میں کام کرتے تھے چناں چہ ہمارا پہلا ایڈیشن آزاد کشمیر، ہزارہ، فاٹا اور گلگت بلتستان کے لیے ہوتا تھا، ہم صبح دس بجے کام سٹارٹ کرتے تھے اور شام چھ بجے تک اخبار کی کاپی تیار کرکے پریس بھجوا دیتے تھے جس کے بعد اخبار شائع ہوتا تھا اور ویگنوں اور بسوں کی چھتوں پر سفر کرکے صبح سویرے آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور فاٹا کے دوردراز علاقوں تک پہنچ جاتا تھا۔

دوسری شفٹ پشاور ایڈیشن کہلاتی تھی، اس کا سٹاف چار بجے آتا تھا اور اس کی کاپی رات دس بجے پریس میں جاتی تھی، اس ایڈیشن میں خیبر پختونخواہ کے مختلف علاقوں کی خبریں ہوتی تھیں اور تیسرا ایڈیشن لوکل تھا، اس کی تیاری صبح دو اڑھائی بجے تک چلتی تھی اور اس میں راولپنڈی اور اسلام آباد کے ملحقہ علاقوں کی خبریں ہوتی تھیں۔

میں 1993ء میں پہلے ایڈیشن میں کام کرتا تھا، اس زمانے میں اخبار اطلاعات کا سب سے بڑا سورس تھا، لوگ چھوٹی سی خبر اور تصویر کے لیے صحافیوں کے پیچھے دوڑتے پھرتے تھے، خبر کے لیے سفارشیں بھی آتی تھیں، میرے پاس روز لوگ تصویریں اور خبریں لے کر آتے تھے اور میں انہیں فراخ دلی سے شائع کرا دیتا تھا، ان لوگوں میں ہزارہ کے ایک دور دراز علاقے کے خان کا ڈرائیور بھی شامل تھا، خان کی اپنی چھوٹی سی ریاست اور ہزار لوگوں کی پرائیویٹ آرمی تھی، اس کی ریاست پاکستان میں ضم ہوگئی لیکن خان کی حیثیت سے اسے بے شمار سہولتیں حاصل تھیں، وہ علاقے کا مالک تھا لہٰذا ہر الیکشن میں ایم این اے بن جاتا تھا، اس کی خبریں اور تصویریں آتی تھیں اور میں انہیں شائع کر دیتا تھا۔

اس کا ڈرائیور ہر بار مجھے خان سے ملاقات اور کھانے کی دعوت دیتا تھا، میں ٹال دیتا تھا لیکن ایک بار خان نے اپنا بھتیجا ڈرائیور کے ساتھ بھجوا دیا، وہ پڑھا لکھا اور خوب صورت نوجوان تھا، اس نے بڑی تمیز کے ساتھ مجھے دعوت دی اور ساتھ اصرار کیا، میں نے بہرحال اس رات کی دعوت قبول کر لی، خان ایم این اے ہاسٹل میں رہائش پذیر تھا، میں شفٹ کے بعد خان کے کمرے میں پہنچ گیا، وہ طویل القامت باریش شخص تھا، نسوار کا عادی تھا، اس نے اس وقت بھی نسوار داڑھوں کے نیچے دبا رکھی تھی اور اس کے منہ اور نتھنوں سے بو آ رہی تھی۔

خان نے بڑے تپاک سے میرا استقبال کیا، وہ محبت سے بار بار میرا ہاتھ دباتا جا رہا تھا، اس دوران کھانے کا وقت ہوگیا، ہمارے سامنے میز پر کھانا لگا دیا گیا، اس کے بعد خان کے دو خادم آئے، انہوں نے میزیں اور کرسیاں سمیٹیں اور زمین پر دری بچھا دی، اس کے بعد خان کے ملازمین اور خادم آئے اور دری پر آمنے سامنے بیٹھ گئے، وہ غالباً دس بارہ لوگ تھے، اس کے بعد وہاں ایک ایسا ہول ناک واقعہ وقوع پذیر ہوا جس نے میری پوری زندگی بدل کر رکھ دی، میں نے زندگی میں سینکڑوں ہزاروں مناظر دیکھے لیکن وہ منظر اپنی تمام تر جزئیات کے ساتھ میرے ذہن میں آج تک پیوست ہے اور میں اسے 33 برس بعد بھی بھول نہیں سکا۔

وہ منظر کیا تھا؟ خان کے سامنے روٹیوں کا ڈھیر لگا تھا، خان ان میں سے روٹی اٹھاتا تھا، اسے ہوا میں لہراتا تھا اور سامنے زمین پر بیٹھے لوگوں میں سے کسی کا نام لے کر روٹی اس کی طرف اچھال دیتا تھا، وہ پشتو میں ممنونیت کا اظہار کرکے روٹی کیچ کر لیتا تھا اور اسے دانت سے توڑ کر کھانا شروع کر دیتا تھا، خان نے اس طرح سب تک روٹی پہنچائی، ہر ایک نے پہلے دانت سے روٹی توڑ کر کھائی اور اس کے بعد نوالوں اور سالن کی باری آئی، میں یہ ہول ناک منظر دیکھ کر اندر سے دہل گیا، خان اس کے بعد میری طرف مڑا اور پشتو لہجے میں بولا "چودھری صاب تم کھانا شروع کرو" میں نے بڑی مشکل سے چند نوالے لیے اور اس کے بعد طبیعت کی خرابی کا بہانہ کرکے اجازت مانگی۔

خان اصرار کرتا رہا لیکن میری طبیعت واقعی خراب ہو رہی تھی اور مجھے محسوس ہو رہا تھا مجھے قے آ جائے گی، میں بہرحال اٹھ کھڑا ہوا، خان بھی کھڑا ہوگیا، اس نے اس دوران جیب میں ہاتھ ڈالا، مٹھی سی بنائی اور زبردستی میری جیب میں پھنسا دی، میں انکار کرتا رہا لیکن خان کا اصرار تھا "تم میرا بیٹا ہے، تمہیں یہ لینا پڑے گا" میں نے جیب میں ہاتھ ڈال کر باہر نکالا تو وہ سو سو روپے کے تین نوٹ تھے، میرے تن من میں آگ لگ گئی، میں نے اپنی جیبیں ٹٹولیں، ان میں کل دو سو روپے تھے، میں نے وہ دو سو روپے خان کے تین سو روپوں میں شامل کیے، وہ خان کے سامنے میز پر رکھے اور کمرے سے نکل آیا، خان کو غصہ آ گیا اور اونچی اونچی آواز میں پشتو زبان میں میری عزت افزائی کرنے لگا۔

میں ایم این اے ہاسٹل کے سامنے دیر تک بیٹھا رہا اور اپنے مستقبل کے بارے میں سوچتا رہا، میں نے خود سوچ سمجھ کر صحافت کا انتخاب کیا تھا، بی اے اور ایم اے دونوں میں صحافت رکھی، یونیورسٹی کا پہلا گولڈ میڈلسٹ تھا، اخبار کی ملازمت کے لیے بھی درجنوں پاپڑ بیلے تھے لیکن خان کی نظر میں میری اوقات تین سو روپے اور ذلت آمیز روٹی تھی، میں ذلت کے احساس سے لرز رہا تھا، میرے پاس اس وقت تین آپشن تھے، میں اس کنڈیشن کو قبول کر لیتا اور روز کسی نہ کسی خان سے روٹی اور تین سو روپے اینٹھنے لگتا، دوسرا میں صحافت چھوڑ کر کسی باعزت شعبے میں چلا جاتا اور تیسرا میں صحافت کے ساتھ ساتھ اپنی معیشت پر بھی توجہ دیتا، خود کو اتنا خوش خال بنا لیتا کہ صحافت میری مالی مجبوری نہ رہتی، میرا شوق، میرا مشغلہ بن جاتی، میں نے وہاں بیٹھے بیٹھے تیسرے راستے کا انتخاب کر لیا، میں نے فیصلہ کر لیا میں اپنا زیادہ سے زیادہ وقت استعمال کروں گا، کام زیادہ اور آرام کم کروں گا اور کوئی ایسا کام نہیں کروں گا جس سے وقت اور توانائی ضائع ہوتی ہو، وہ یقیناََ قبولیت کی گھڑی تھی، اللہ تعالیٰ نے میرا ہاتھ تھام لیا، میری زندگی اس کے بعد تین حصوں میں تقسیم ہوگئی، صحافت، ذاتی کام اور فیملی۔

آپ اگر صحافتی شعبے سے تعلق رکھتے ہیں تو آپ نے مجھے پچھلے تیس برسوں میں پریس کانفرنسوں میں بہت کم دیکھا ہوگا، مجھے آپ نے سیاسی کھانوں یا سیاسی اجتماعات میں بھی کم دیکھا ہوگا، میں 35 برسوں سے صرف چار بار پارلیمنٹ ہائوس گیا ہوں، پاک سیکرٹریٹ کے بلاکس اور وزراء کے دفتروں سے بھی واقف نہیں ہوں اور سیاسی جماعتوں کے دفتر کہاں کہاں ہیں میں یہ بھی نہیں جانتا، میرے پاس اس کے لیے وقت ہی نہیں تھا، بہرحال اللہ تعالیٰ نے کرم کیا اور میں تین برسوں میں اپنی تنخواہ سے زیادہ اپنے کام سے کمانے میں کام یاب ہوگیا۔

میں نے اس رقم سے اپنے بیٹے کو اسلام آباد کے ٹاپ کے سکول میں داخل کرایا، میں اپنے کولیگز میں سب سے پہلے گاڑی خریدنے والا شخص بھی بن گیا، والد نے مدد کی، انہوں نے مجھے گھر بنا دیا اور یوں میں اپنی گاڑی اور اپنے گھر کا مالک بھی بن گیا، یہ سلسلہ چلتا رہا لیکن پھر ایک وقت ایسا آیا جب میرے لیے ملازمت اور کاروبار دونوں کو ساتھ چلانا مشکل ہوگیا، مجھے دونوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا تھا، مزاج میں وفاداری تھی، میں کسی کو چھوڑتا نہیں ہوں، وہ ادارہ ہو یا انسان۔ میرے لیے پاکستان اخبار چھوڑنا ممکن نہیں تھا، اللہ تعالیٰ نے رحم کیا اور پاکستان اخبار نے مجھے خود ہی دفتر سے باہر دھکا دے دیا اور وہاں سے میری اصل صحافت شروع ہوگئی۔

آپ اگر مجھے پڑھ رہے ہیں یا سن اور دیکھ رہے ہیں تو آپ اس کے بعد کی کہانی اچھی طرح جانتے ہیں لہٰذا میں 1993ء اور پانچ سو روپے کی کہانی کی طرف واپس آتا ہوں، میں نے اس دن فیصلہ کیا معاشی خوش حالی پہلی ترجیح ہے، دوم میں نے کسی سے کھانا نہیں کھانا، لوگ دو ہوں یا دس بل صرف میں دوں گا، تین، آخری دم تک عزت کے ساتھ صحافت کروں گا، عزت پر کوئی کمپرومائز نہیں ہوگا اور چار کوئی ادارہ ہو یا شخص اسے خود نہیں چھوڑوں گا لیکن اگر وہ چھوڑ دے تو اس کے فیصلے کو سیکنڈ میں قبول کر لوں گا، بحث یا سودہ بازی نہیں کروں گا، ان فیصلوں نے آنے والے دنوں میں میری زندگی بدل دی۔

میں نے بے تحاشا کام کیا، درجن بھر کمپنیاں بنائیں اور ایک کام کے بعد دوسرا کام اور دوسرے کے بعد تیسرا کام کرتا چلا گیا، اللہ نے ہاتھ پکڑ لیا، اس نے بڑی برکت عطا کی، میں نے اس کے بعد کسی اجنبی یا روایتی تعلق دار سے کھانا نہیں کھایا، کسی فنکشن میں جانا پڑے تو کھانا گھر سے کھا کر جاتا ہوں اور وہاں کھانے کی اداکاری کرتا ہوں، ریستوران جاتا ہوں تو تین چار دوستوں کے علاوہ بل خود دیتا ہوں، یہ دوست میرے دکھ سکھ کے ساتھی ہیں، انہیں ناراض کرنے کی غلطی نہیں کر سکتا، پیدائشی صحافی ہوں، صحافت چھوڑی اور نہ مستقبل میں چھوڑوں گا، یہ میرا پروفیشن بھی ہے اور اوبسیشن (Obsession) بھی تاہم عزت پر کبھی کمپرومائز نہیں کیا، کیوں؟ کیوں کہ عزت مجھے اللہ تعالیٰ نے دی ہے اور میں اللہ کی دی ہوئی کسی بھی نعمت کو کسی انسان کے در پر نہیں بٹھا سکتا اور میں نے آج تک کوئی ادارہ یا کوئی شخص نہیں چھوڑا، جو ساتھ جڑ گیا اس کی ذمہ داری قبول کر لی، اسے نہیں چھوڑا تاہم وہ اگر چلا گیا تو اسے روکا نہیں، کیوں؟ کیوں کہ میں سمجھتا ہوں جانے والوں کو ہمیشہ راستہ دینا چاہیے واسطہ نہیں۔

ایکسپریس کے ساتھ بھی میرا ساڑھے انیس سال تعلق رہا، میں نے 2006ء میں اسے جوائن کیا، میری آمد اس وقت بھی اتنی ہی بڑی خبر تھی جتنی آج اس سے رخصت ہوتے وقت ہے، ساڑھے 19 سال کالم لکھا، شو 2008ء کے شروع میں سٹارٹ کیا۔ "کل تک" ایکسپریس ٹی وی کا پہلا شو تھا، یہ 18 سال مسلسل جاری رہا لیکن پھر اچانک پانچ نومبر 2025ء کو یہ تعلق ختم ہوگیا۔

جاری ہے۔۔