Wednesday, 18 March 2026
  1. ہوم/
  2. کالمز/
  3. مذہبی جنگ (4)

مذہبی جنگ (4)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ کربلا کے بعد شروع ہوا اور یہ چیونٹی کی رفتار سے آہستہ آہستہ 21 ویں صدی میں داخل ہوگیا، کربلا کا یہودیوں کے ساتھ کیا تعلق ہے؟ اس کی طرف آنے سے پہلے ہمیں بنی اسرائیل، عیسائیت اور اسلام کے درمیان فرق سمجھنا ہوگا۔

تورات اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسانوں پر پہلی اور زبور دوسری کتاب تھی، ان دونوں کتابوں میں اللہ کے آخری نبی (مسیحا) کا ذکر ہے، بنی اسرائیل کی روایات میں بھی یہ موجود ہے اور حضرت دائودؑ اور حضرت سلیمانؑ کی تعلیمات میں بھی، حضرت عیسیٰؑ تشریف لائے تو عیسائیوں نے انہیں مسیحا قرار دے دیا لیکن یہودیوں نے انہیں ماننے سے انکار کر دیا یوں یہودیت اس نقطے پر رک گئی، حضرت عیسیٰؑ کو جب لوگوں نے مسیحا کہنا شروع کیا تو انہوں نے اس تاثر کی نفی کی اور فرمایا مسیحا میرے بعد آئے گا اور وہ آخری نبی ہوگا مگر عیسائیوں نے اس حکم کے باوجود حضرت عیسیٰؑ کو مسیحا، خدا کا بیٹا اور آخری نبی ڈکلیئر کر دیا چناں چہ یہ بھی یہاں رک گئے۔

نبی اکرمﷺ تشریف لائے اور نبوت اور مزید مذاہب کا سلسلہ ختم ہوگیا لیکن یہودیوں اور عیسائیوں دونوں نے اسلام اور رسول اللہ ﷺ کو ماننے سے انکار کر دیا جس کے بعد تین مذاہب نے الگ الگ بائونڈریز بنالیں تاہم ان بائونڈریز کے باوجود یہ تینوں ایک خدا، فرشتوں، کتاب اور روز آخرت پر متفق ہیں یوں یہ کم و بیش ایک ہی زنجیر کی کڑیاں ہیں۔

اسلام سے قبل بنی اسرائیل پر تین دین اور تین کتابیں نازل ہوئیں اور یہ حقیقت ہے ان تینوں مذاہب اور کتابوں کا مرکز یروشلم تھا جب کہ اسلام مکہ اور مدینہ میں آیا لہٰذا اسلام ابتداً اسی طرح عربی مذہب کہلایا جس طرح پچھلے تینوں مذاہب بنی اسرائیل کے مذہب کہلاتے تھے، حضرت عیسیٰؑ کے بعد سات سو سال تک یہودی اور عیسائی لڑ بھڑ کر ایڈجسٹ ہو گئے، حضرت علیؓ کے دور میں جنگ صفین ہوئی، اس کے بعد عالم اسلام دو حصوں میں تقسیم ہوگیا، حجاز کا علاقہ حضرت علیؓ کے پاس چلا گیا اور شام پر حضرت امیر معاویہؓ قابض ہو گئے۔

حضرت علیؓ اور حضرت امام حسنؓ کی شہادت کے بعد حجاز بھی اموی ریاست کا حصہ بن گیا صرف مکہ اور مدینہ رہ گئے، یروشلم حضرت عمر فاروقؓ کے زمانے میں فتح ہوا تھا لیکن اسے فلسطین کا نام حضرت امیر معاویہؓ نے دیا تھا، یہ علاقہ اموی ریاست کا حصہ تھا، یزید کے زمانے میں کربلا کا واقعہ پیش آیا اور امویوں نے حضرت علیؓ کے خاندان کے تمام مرد شہید کر دیے صرف حضرت امام زین العابدینؓ بیماری کی وجہ سے محفوظ رہے، کربلا کے بعد پورا عرب امویوں کے پاس چلا گیا جس کے بعد دارالحکومت حجاز سے نکل کر دمشق میں آگیا، اموی خلفاء بہت طاقتور تھے لیکن وہ واقعہ کربلا کی وجہ سے مکہ اور مدینہ میں قدم رکھتے ہوئے ڈرتے تھے، وہ حج کے لیے بھی حجاز مقدس نہیں جاتے تھے۔

خلیفہ عبدالملک بن مروان پانچواں اموی خلیفہ تھا، وہ 685ء سے 705ء تقریباً 20 سال خلیفہ رہا، اس نے اپنے زمانے میں (نعوذباللہ) مکہ اور مدینہ کی اہمیت کم کرنے کے لیے قبلہ اول کی ایڈورٹائزنگ شروع کر دی، یہ درست ہے مسلمان ہجرت کے بعد 16 یا 17 ماہ یہودیوں اور عیسائیوں کی طرح بیت المقدس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتے تھے لیکن پھر دو ہجری میں ظہر کی نماز کے دوران سورۃ البقرہ کی آیات اتریں اور رسول اللہ ﷺ نے اپنا رخ انور بیت المقدس سے خانہ کعبہ کی طرف پھیر لیا اور اس کے بعد بیت اللہ ہمارا قبلہ بن گیا۔

دوسرا یہ بھی حقیقت ہے حضرت ابراہیمؑ نے مسجد اقصیٰ خانہ کعبہ کی تعمیر کے 40 سال بعد بنائی تھی، حضرت ابراہیمؑ کے زمانے میں بیت اللہ صرف ایک تھا اور وہ تھا خانہ کعبہ، بنی اسرائیل جب یروشلم سے نکل کر مصر میں آباد ہوئے تو وہ یروشلم کی طرف منہ کرکے عبادت کرتے تھے تاہم یہ لوگ جب حضرت موسیٰؑ کی قیادت میں فلسطین واپس آئے تو انہوں نے غاروں کے اندر اتر کر مسجد اقصیٰ تلاش کی اور یہ اس طرف منہ کرکے عبادت کرنے لگے۔

حضرت دائودؑ نے اپنے زمانے میں مسجد اقصیٰ کے گرد معبد بنا دیا، یہ پورا معبد یہودیوں کے لیے قبلہ بن گیا، حضرت دائودؑ کے بعد حضرت سلیمانؑ نے معبد کے گرد فرسٹ ٹیمپل بنا دیا، بخت نصر آیا، اس نے فرسٹ ٹیمپل توڑ دیا اور یہودیوں کو بابل لے گیا، یہ وہاں بھی فلسطین کی طرف منہ کرکے عبادت کرتے تھے، سائرس اعظم کے زمانے میں یہودی واپس آئے اور فرسٹ ٹیمپل کے آثار پر سیکنڈ ٹیمپل بنایا اور اس کی طرف منہ کرکے عبادت کرنے لگے، یہ ٹیمپل 70 عیسوی میں رومن نے تباہ کر دیا جس کے بعد اس پورے کمپائونڈ میں مغرب کی سائیڈ پر صرف ایک دیوار بچ گئی، یہ دیوار عثمانی خلیفہ سلیمان علی شان کے دور تک خفیہ رہی۔

سلطان سلیمان کے زمانے میں زلزلہ آیا، عمارتیں گریں اور یہ دیوار سامنے آئی، سلطان سلیمان نے یہودی، عیسائی اور مسلمان علماء سے دیوار کی تصدیق کرائی اور اسے مقدس قرار دے کر یہودیوں کے حوالے کر دیا، یہ دیوار آج ویسٹ وال یا دیوار گریہ کہلاتی ہے اور یہودیوں کے لیے انتہائی اہم ہے مگر آپ یہ ذہن میں رکھیں مسجد اقصیٰ اس دیوار سے ذرا سے فاصلے پر زیر زمین غار میں ہے، مسلمان حضرت ابراہیمؑ سے مناسبت کی وجہ سے اس کا احترام کرتے تھے لیکن یہ کبھی خانہ کعبہ سے زیادہ اہم نہیں رہی، یہودیوں نے بھی اسے کبھی دیوار گریہ سے زیادہ اہمیت نہیں دی۔

خلیفہ عبدالملک بن مروان کے زمانے میں یہاں کچھ بھی نہیں تھا، دیوار گریہ تک نہیں تھی صرف چھوٹی سی مسجد اقصیٰ تھی، خلیفہ نے قبلہ اول کو قبلہ دوم کے مقابلے میں اہمیت دینے کا فیصلہ کیا، اس نے دمشق کے عالم دین رجاء ابن حیوہ اور یروشلم کے سکالر یزید بن سلام کو ذمہ داری سونپی اور دونوں نے یہودیوں کے سیکنڈ ٹیمپل کی جگہ "ڈوم آف دی راک" بنا دیا، یہ سنہری گنبد کی وسیع عمارت تھی جسے عربی زبان میں قبۃ الصخرۃ کہا جاتا ہے، آپ یہاں یہ بھی ذہن میں رکھیں حضرت ابراہیمؑ کی تعمیر کردہ مسجد اقصیٰ اس ڈوم سے ذرا سے فاصلے پر زیر زمین ہے، ڈوم آف دی راک کے نیچے دراصل وہ چٹان ہے جہاں سے حضور اکرم ﷺ معراج کے لیے تشریف لے گئے تھے، یہ علاقہ ماضی میں پہاڑی تھا اور یہ ٹیمپلز (فرسٹ اینڈ سیکنڈ ٹیمپل) کی وجہ سے ٹیمپل مائونٹین کہلاتا تھا، خلیفہ عبدالملک نے اس ٹیمپل مائونٹین پر یہودیوں کے دونوں ٹیمپلز کی جگہ پر اس نوعیت کی عمارت بنائی کہ معراج کی جگہ اور مسجد اقصیٰ دونوں اس کے احاطے میں آ گئیں اور یہاں سے وہ مسئلہ شروع ہوگیا جو 2026ء تک حل نہیں ہو رہا۔

عربی اس علاقے کو بیت المقدس کہتے تھے، حضرت عمر فاروقؓ کے زمانے میں یہ علاقہ بازنطینی عیسائیوں کے قبضے میں تھااور یہاں یہودی نہ ہونے کے برابر تھے، یہ حضرت عمر فاروقؓ کے زمانے (636ء)میں مسلمانوں کے پاس آ گیا، حضرت امیر معاویہؓ نے اسے فلسطین کا نام دیا اور خلیفہ عبدالملک بن مروان نے یہاں "ڈوم آف دی راک" بنایا۔

1099ء میں اس پر یورپ کے عیسائی (صلیبی) قابض ہو گئے، سلطان صلاح الدین ایوبی نے 1187ء میں یہ دوبارہ واپس لے لیا اور یہ اس کے بعد پہلی جنگ عظیم تک مسلمانوں کے قبضے میں رہا، یہ 1516ء سے 1920ء تک چار سو سال عثمانی خلافت کا حصہ رہا، اس دوران پورے عالم اسلام سے مسلمان آتے رہے اور یہاں آباد ہوتے رہے، مسلمانوں کے بعدیہاں سب سے بڑی آبادی عیسائیوں کی تھی جب کہ یہودی چند ہزار سے زیادہ نہیں تھے، 1845ء کی مردم شماری کے مطابق فلسطین میں صرف 12 ہزار یہودی تھے لیکن پھر اچانک ان کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا اور یہ 1914ء میں 85 ہزار ہو گئے۔

آبادی کے اس جمپ کی وجہ سوئٹزرلینڈ کا یہودی صحافی اور مصنف تھیوڈور ہرزل تھا، وہ آسٹرین ہنگرین تھا، سوئٹزرلینڈ کے شہر باسل میں رہتا تھا، اس نے باسل میں ورلڈ زائنسٹ آرگنائزیشن کی بنیاد رکھی اور "جیوش سٹیٹ" کے نام سے کتاب لکھی، اسرائیل کا تصور اس کتاب میں تھا، اس نے 1897ء میں باسل میں دنیا کی پہلی زائنسٹ (Zionist) کانفرنس بھی کی، اس میں دنیا بھر کے دو سو امیر اور بااثر یہودی شامل ہوئے اور انہوں نے اسرائیل کے نام سے ملک بنانے کا فیصلہ کیا، میں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل آپ کو زیون (Zion) کے بارے میں بھی بتاتا چلوں۔

مسلمان اسے صیہون کہتے ہیں، آپ نے اکثر صیہونی سازش کی اصطلاح سنی ہوگی، زیون یا صیہون دراصل پہاڑی کا نام ہے، یہ ٹیمپل مائونٹ کے بالکل ساتھ ہے، ٹیمپل مائونٹ پر بیت المقدس اور ڈوم آف دی راک ہے جب کہ مائونٹ زیون پر حضرت دائودؑ کا مقبرہ ہے، یہ پہاڑی یہودیوں اور عیسائیوں دونوں کے لیے مقدس ہے، حضرت عیسیٰؑ نے اپنا آخری ڈنر (لاسٹ سپر) یہیں کیا تھا اور حضرت مریمؑ کا وصال بھی اسی پہاڑی پر ہوا تھا اور عیسائیوں کے تمام اہم چرچ بھی اسی پہاڑی پر واقع ہیں، آپ نے اسرائیل کے جھنڈے اور سرکاری دستاویز پر چھ کونوں کا ستارہ دیکھا ہوگا، یہ ستارہ حضرت دائودؑ کی ڈھال (شیلڈ) پر کھدا تھا، یہ اس مناسبت سے سٹار آف ڈیوڈکہلاتا ہے، یہ بعدازاں حضرت دائودؑ کی ریاست کی مہر بھی بن گیا، مائونٹ زیون پر حضرت دائودؑ کے مقبرے پر بھی یہ ستارہ بنا ہوا ہے لہٰذا یہودی بھی مائونٹ زیون کا بہت احترام کرتے ہیں۔

586 قبل مسیح میں انہیں بخت نصر بابل لے گیا، یہ 50 سال اس کی حراست میں رہے، بخت نصر نے انہیں جس علاقے میں رکھا تھا اس کا نام تل ابیب تھا، یہ فارسی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب پہاڑی نالہ ہوتا ہے، یہ لوگ پہاڑی نالے کے قریب آباد تھے چناں چہ وہ علاقہ تل ابیب کہلاتا تھا، یہودیوں نے1900ء میں فلسطین واپس آنے کے بعدجب اپنا پہلا شہر بنایا تو انہوں نے اس کا نام تل ابیب رکھا، یہ بعدازاں اسرائیل کا پہلا دارالحکومت بنا، بخت نصر کے زمانے میں یہودیوں کے دو لیڈروں نے مائونٹ زیون کے نام سے خفیہ تنظیم بنائی، سٹار آف ڈیوڈ اس کا نشان رکھا اور سائرس اول (ذوالقرنین) کو بابل پر حملے کی تحریک دینے لگے۔

سائرس نے جب بابل پر حملہ کیا تو یہودیوں نے اس کی بھرپور مدد کی، یہ دنیا میں پہلی صیہونی سازش تھی، اس واقعے کو ذہن میں رکھ کر اڑھائی ہزار سال بعد تھیوڈور ہرزل نے مائونٹ زیون کی یاد میں ورلڈ زائنسٹ آرگنائزیشن بنائی، 1897ء میں سلطان عبدالحمید دوم خلافت عثمانی کا سلطان تھا، تھیوڈور ہرزل سلطان سے ملا اور اس سے درخواست کی پانچ سو سال سے یہودیوں پر فلسطین میں آباد کاری پر پابندی ہے، آپ مہربانی کرکے ہم سے یہ پابندی اٹھالیں، سلطان اس کی دل آویز شخصیت اور انداز گفتگو سے متاثر ہوگیا اور اس نے 1902ء میں یہودیوں کو فلسطین میں آباد کاری کی اجازت دے دی جس کے بعد باسل کانفرنس کے 200 امیر یہودیوں نے دنیا بھر میں پھیلے یہودیوں کو تحریک اور مالی مدد دی اور یہ دھڑا دھڑ فلسطین آنے لگے۔

یہودیوں نے 1909ء میں تل ابیب شہر آباد کیا اور یوں 1914ء میں ان کی تعداد 85 ہزار ہوگئی، اس وقت فلسطین کی کل آباد 13 لاکھ تھی، ان 13 لاکھ میں مسلمان 11 لاکھ اور عیسائی دو لاکھ تھے جب کہ یہودی صرف 85 ہزار تھے، 1917ء میں آرتھر بالفور (Arthur Balfour) برطانیہ کا وزیر خارجہ تھا، وہ خود کو زائنسٹ کرسچین کہتا تھا، اس نے ماڈرن ہسٹری میں پہلی مرتبہ یہودی ریاست کے قیام کا اعلان کیا، یہ اعلان بالفور ڈکلیئریشن کہلایا اور یہ آنے والے دنوں میں اسرائیل کی بنیاد بنا۔

ہم قصے کو مزید مختصر کرتے ہیں، 1919ء میں خلافت عثمانیہ کے خاتمے کے بعد اتحادیوں نے عرب کو عراق، شام، لبنان، اردن اور فلسطین پانچ حصوں میں تقسیم کر دیا، چار ملک عراق، شام، لبنان اور اردن آزاد تھے جب کہ فلسطین کو برطانیہ نے اپنے قبضے میں لے لیا، دنیا اس فیصلے پر حیران ہوئی لیکن جب برطانیہ کی آشیرباد سے دنیا بھر سے یہودی فلسطین آ کر آباد ہونے لگے اور منہ مانگی قیمت دے کر فلسطینیوں کی جائیدادیں اور زمینیں خریدنے لگے تو سمجھ داروں کو برطانیہ کے عزائم کا اندازہ ہوگیا مگر اسلامی دنیا اس وقت بہت کم زور تھی، عرب اپنی سروائیول کی جنگ لڑ رہے تھے لہٰذا مسلمانوں کے پاس برداشت کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا، عرب بعدازاں مزید تقسیم ہوا اور اس میں سے 1932ء میں سعودی عرب نے جنم لے لیا اور پھر یو اے ای، قطر، بحرین، کویت اور عمان پیدا ہو گئے، دوسری طرف یمن، مصر، لیبیا اور المغرب بنے، المغرب بعدازاں مراکو، تیونس اور الجیریا میں تقسیم ہوگیا تاہم ان ملکوں کی پیدائش کا معاملہ مڈل ایسٹ یعنی سنٹرل عرب سے مختلف تھا۔

بہرحال قصہ مزید مختصر برطانیہ 1920ء سے 1940ء تک دنیا بھر سے یہودیوں کو لا کر فلسطین میں آباد کرتا رہا یہاں تک کہ فلسطین میں 1948ء میں یہودیوں کی تعداد 6 لاکھ 30 ہزار ہوگئی، عرب مسلمان اس وقت بھی ساڑھے بارہ لاکھ تھے، یہودیوں نے دوسری جنگ عظیم کا فائدہ اٹھاتے ہوئے عرب مسلمانوں پر حملے شروع کر دیے، برطانیہ جنگ میں کم زور ہو چکا تھا، اس نے 1947ء میں فلسطین کا مسئلہ اقوام متحدہ کے حوالے کر دیا اور اقوام متحدہ نے 29 نومبر 1947ء کو یروشلم شہر کو اپنے کنٹرول میں رکھ کر ملک کو اسرائیل اور فلسطین دو حصوں میں تقسیم کر دیا۔

ڈیوڈ بن گوریان اس وقت یہودیوں کا لیڈر تھا، اس نے فوری طور پر یہودیوں کی گوریلا فورس بنائی، اس کا نام اسرائیل ڈیفنس فورس (آئی ڈی ایف) رکھا اور عربوں پر حملے شروع کر دیے، تل ابیب کے ائیرپورٹ کا نام بن گوریان کے نام پر ہے، آپ آج کل خبروں میں آئی ڈی ایف کا نام بھی پڑھتے ہیں، یہ ادارہ بھی بن گوریان نے بنایا تھا، گوریان نے 14 مئی 1948ء کو پورے فلسطین کو اسرائیل ڈکلیئر کیا اور آزادی کا اعلان کر دیا جس کے بعد پہلی عرب اسرائیل جنگ شروع ہوگئی، اس میں مٹھی بھر یہودیوں نے ساڑھے سات لاکھ فلسطینی مسلمانوں کو نکال دیا اور فلسطین پر قابض ہو گئے، ڈیوڈ بن گوریان فادر آف نیشن اور اسرائیل کا پہلا وزیراعظم بن گیا۔

جاری ہے۔۔

بہ شُکریہ: جاوید چوہدری ڈاٹ کام