"اوئے انچارج صاحب اوپر دیکھو" آواز بھاری اور بدتمیز تھی اور ہمارے پورے دفتر میں اتنی بدتمیز اور بھاری آواز صرف ایک شخص کی تھی اور اس کا نام اکبر علی بھٹی تھا، وہ ہمارے اخبار کے مالک تھے، بھٹی صاحب سیاست دان تھے، وہاڑی سے ایم این اے تھے، ملٹی پل بزنس کرتے تھے جن میں زمینداری سے ادویات تک کا کاروبار شامل تھا۔
زیادہ پڑھے لکھے نہیں تھے تاہم امارت نے ان کی کم علمی پر پردہ ڈال دیا تھا، 1990 میں انھیں کسی نے بتا دیا پوری حکومت اور بیوروکریسی صرف صحافیوں سے ڈرتی ہے اگر آپ دو چار کروڑ لگا کر کوئی اخبار خرید لیں یا نیا اخبار نکال لیں تو آپ کی بلے بلے ہو جائے گی۔
ضیاء شاہد مرحوم اس زمانے کے چوٹی کے صحافی تھے، اکبر علی بھٹی نے ان سے رابطہ کیااور دونوں نے ڈیلی پاکستان کے نام سے ملک کا تیسرا بڑا اخبار نکال لیا، پاکستان سے پہلے ملک کی سیاسی اور صحافتی افق پر دو اخبارات کی اجارہ داری تھی، ڈیلی پاکستان نے یہ اجارہ داری بھی توڑ دی اور صحافیوں کی تنخواہوں میں بھی اضافہ کر دیا۔
ضیاء شاہد مرحوم انقلابی اور کرشماتی شخصیت تھے، یہ پرانے لوگوں کی بجائے نوجوانوں کو موقع دیتے تھے، میرے سمیت اس وقت صحافت میں جتنے بھی لوگ ہیں یہ کسی نہ کسی حوالے سے ضیاء شاہد مرحوم کی دریافت ہیں، بہرحال پاکستان اخبار نکلا اور اس نے روایتی صحافت کے تمام بت توڑ دیے۔
لیکن بدقسمتی سے یہ سلسلہ زیادہ دیر تک نہ چل سکا، ضیاء شاہد نے پاکستان اخبار چھوڑ دیا اور خبریں کے نام سے اپنا ادارہ بنا لیا، اکبر علی بھٹی نے اس کے بعد عباس اطہر مرحوم کو ایڈیٹر بنا دیا، عباس اطہر شاہ جی کہلاتے تھے اور کمال انسان اور صحافی تھے۔
میں 1992 میں شاہ صاحب سے متعارف ہوا تھا لیکن بدقسمتی سے میں ان کے ساتھ زیادہ عرصہ کام نہیں کر سکا مگر اس کے باوجود شاہ صاحب کے اثرات آج تک قلم اور ذہن دونوں میں موجود ہیں، میں آج تک یہ فیصلہ بھی نہیں کر سکا شاہ صاحب ایڈیٹر بڑے تھے یا انسان۔
بہرحال قصہ مختصر شاہ صاحب ڈیلی پاکستان میں آئے تو یہ اپنے ساتھ اپنی ٹیم بھی لے آئے، شاہ صاحب کیوں کہ ان دنوں نوائے وقت سے منسلک تھے چناں چہ ان کی ساری ٹیم نوائے وقت سے امپورٹ کی گئی تھی، میں بھی ان میں شامل تھا، میں اس ٹیم کا نالائق اور جونیئر رکن تھا اور یہ لوگ مجھے ترس کھا کر ساتھ لائے تھے۔
ڈیلی پاکستان نے اس زمانے میں اسلام آباد سے اپنی اشاعت شروع کی، ہم سب کو لاہور سے اسلام آباد کی طرف ہانک دیا گیا، ہمارا دفتر میلوڈی میں تھا اور رہائش میریٹ کے پیچھے گلشن جناح میں، یہ 1992 تھا، میاں نواز شریف کی حکومت تھی، اکبر علی بھٹی حکومتی ایم این اے تھے، انھیں گلشن جناح میں تین فلیٹس الاٹ ہوئے تھے، ایک میں یہ خود رہتے تھے اور دو ہمارے قبضے میں تھے۔
ہم پندرہ بیس لڑکے آڑھے ترچھے ہو کر ان فلیٹس میں سو جاتے تھے اور پیدل دفتر جاتے تھے، اس زمانے کا اسلام آباد آج سے مکمل مختلف تھا یہاں روز بارش ہوتی تھی، ہر طرف جنگل تھا، ٹرانسپورٹ نہ ہونے کے برابر تھی اور رات آٹھ بجے کے بعد شہر میں سور پھرتے تھے اور سناٹے کا راج ہوتا تھا۔
سرکاری دفتروں اور ایمبیسیوں کے گیٹ کھلے ہوتے تھے اور ہم منہ اٹھاکر ان میں داخل ہو جاتے تھے، میں اس دور میں ویزہ لینے کے لیے پولینڈ ایمبیسی چلا گیا، آپ یقین کریں میں نے باہر موٹر سائیکل کھڑی کی اورپاسپورٹ اٹھا کر سفیر کے کمرے میں داخل ہوگیا، سفیر نے خود اپنے ہاتھ سے میرا فارم بھرا، مجھ سے ویزہ فیس لی اور مجھے بغیر کسی کاغذ کے ویزہ لگا دیا۔
اس نے صرف میرا صحافتی کارڈ دیکھا تھا اور فون کرکے میرے دفتر سے تصدیق کی تھی، بہرحال قصہ مزید مختصر ہم رہائش گاہ اور دفتر شیئر کرنے کی وجہ سے مسلسل اکبر علی بھٹی کو دیکھتے رہتے تھے، انھیں اردو نہیں آتی تھی، وہ پنجابی میں بات کرتے تھے اور لہجے میں بدتمیزی ہوتی تھی، اوئے کہہ کر مخاطب ہوتے تھے، وہ سیاسی جوڑ توڑ کا زمانہ تھا۔
صدر غلام اسحاق خان نے میاں نواز شریف کی حکومت توڑ دی جس کے بعد اکبر علی بھٹی پیپلز پارٹی میں شامل ہو گئے، عباس اطہر نے ڈیلی پاکستان چھوڑدیا، ان کے ساتھ ان کی ٹیم بھی چلی گئی لیکن میں اخبار میں ٹک گیا، نئے ایڈیٹر اظہر سہیل مرحوم تھے، وہ آصف علی زرداری اور محترمہ بے نظیر بھٹو کے دوست تھے۔
بھٹی صاحب نے انھیں اس چکر میں ایڈیٹر بنا دیا، اظہر سہیل کو سینئر لوگوں پر جونیئر بٹھانے کا شوق تھا چناں چہ انھوں نے مجھے شفٹ انچارج بنا دیا، میں جونیئر تھا اور باقی لوگ سینئر تھے، وہ میری "افسری" تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں تھے بعدازاں ان میں سے آدھے نوکری چھوڑ کر چلے گئے اور باقی روز آتے تھے، مجھے سر کہہ کر تنگ کرتے تھے، قہقہہ لگاتے تھے اور چلے جاتے تھے چناں چہ سارا ورک لوڈ مجھ پر آ گیا، اس کے مجھے دو فائدے ہوئے، ایک مجھے شوگر ہوگئی اور دوسرا میں کام سیکھ گیا، میں اعتراف کرتا ہوں میں آج بھی ان چار برسوں کی کمائی کھا رہا ہوں۔
میں اسٹوری کی طرف واپس آتا ہوں، ایک شام میں خبروں کے ڈھیر میں گم تھا اور اچانک میرے کانوں میں اکبر علی بھٹی کی آواز گونجی اوئے انچارج صاحب اوپر دیکھو، میں گھبرا کر کھڑا ہوگیا، اکبر علی بھٹی کے گلے میں دائمی سوزش تھی، وہ ہر دوچار منٹ بعد کھنگار کر گلہ صاف کرتے تھے جس کے بعد وہ اگلے کھنگار تک پان کھانے والوں کی طرح جبڑے ہلاتے رہتے تھے، وہ اس وقت بھی جبڑے ہلا رہے تھے۔
میں نے ان سے پوچھا "جی سر" ان کے ساتھ گندمی رنگت کے ایک بھاری جسم والے صاحب کھڑے تھے، بھٹی صاحب نے ان کی طرف اشارہ کیا اور حکم دیا "یہ پروفیسر میرے دوست ہیں، یہ آج سے آپ کے ساتھ کام کریں گے، انھیں کوئی تکلیف نہیں ہونی چاہیے" بھٹی صاحب یہ حکم دے کر دفتر سے چلے گئے جب کہ وہ صاحب کھڑے ہو کر مجھے دیکھ رہے تھے اور میں انھیں، میں نے انھیں بٹھایا، چائے آرڈر کی اور ان سے عرض کیا، کاپی کاوقت ہوگیا ہے، آپ اگر اجازت دیں تو میں فارغ ہو کر آپ سے بات کر لوں۔
پروفیسر صاحب نے ہاں میں سر ہلا کر اجازت دے دی، میرے پاس اس وقت پندرہ بیس لوگوں کی ٹیم تھی لیکن عملاً میں اکیلا تھے، وہ لوگ کام نہیں کرتے تھے، وہ صرف آتے تھے، چائے پیتے تھے، مجھے تنگ کرتے تھے اور وقت پورا ہونے کے بعد گھر چلے جاتے تھے لہٰذا سارا کام مجھ اکیلے کو کرنا پڑتا تھا اوپر سے بھٹی صاحب ایک پروفیسر بھی میرے متھے مار گئے تھے۔
آپ میری صورتحال کا اندازہ کر سکتے ہیں، بہرحال قصہ مختصر میں کاپی سے فارغ ہو کر پروفیسر صاحب کے ساتھ بیٹھ گیا، تعارف کے بعد پتا چلا ان کا نام پروفیسر غنی جاوید ہے، چکوال کے کسی کالج میں انگریزی پڑھاتے تھے، جوانی میں آسٹرولوجی کا شوق ہوگیا اور اس فن میں تیس سال لگا دیے، بلا کے انگریزی دان اور بلا کے آسٹرالوجر ہیں، چکوال کے قریب بھون کے رہنے والے ہیں، ان کی شہرت کسی نہ کسی طرح اسلام آباد پہنچ گئی اور یہ سیاستدانوں میں اٹھنے بیٹھنے لگے۔
یہ لوگ انھیں بھون سے بلا لیتے تھے، سارا سارا دن اپنے مقدر کا حساب نکلواتے رہتے تھے اور شام کو بس کے اڈے پر چھوڑ آتے تھے، یہ بے چارے خالی ہاتھ بھون سے آتے تھے اور خالی ہاتھ واپس چلے جاتے تھے، یہ اس خواری کے دوران کالج سے ریٹائر ہو گئے اور اب اکبر علی بھٹی کے ذاتی جوتشی ہیں، بھٹی صاحب نے اخبار میں ان کا روزانہ کا زائچہ شروع کرا دیا لیکن اس کا معاوضہ بہت کم تھا۔
پروفیسر صاحب کا اس میں گزارہ نہیں ہوتا تھا، انھوں نے بھٹی صاحب سے درخواست کی اور بھٹی صاحب نے انھیں زائچے کیساتھ ڈیسک پر بھی نوکری دے دی جس کے بعد پروفیسر صاحب کے تین کام ہو گئے، یہ ڈیسک پر کام کرینگے، روزانہ کا زائچہ بنائینگے اور شام کے بعد اکبر علی بھٹی اور ان کے سیاستدان دوستوں کو اچھے دنوں کی امید دکھائینگے۔
ان کی کوئی مستقل رہائش بھی نہیں تھی، یہ کبھی ایک ایم این اے کے کمرے میں سو تے تھے اور کبھی دوسرے کے بیڈروم میں، سیاستدان انھیں ایک دوسرے کی طرف پھینکتے رہتے تھے، میں بہرحال یہ سب کچھ سن کر پریشان ہوگیا، کیوں؟ کیونکہ اول میرے پاس انھیں بٹھانے کے لیے جگہ نہیں تھی اور دوم مجھے کام کرنیوالا بندہ چاہیے تھا، فارغ ماہرین کی پوری فوج میرے پاس پہلے سے موجود تھی، اوپر سے یہ بھی نازل ہو گئے لیکن میرے پاس ظاہر ہے کوئی دوسرا آپشن نہیں تھا چنانچہ میں نے انھیں مصنوعی گرم جوشی سے ویل کم کہہ دیا اور یہ پروفیسر غنی جاوید کے ساتھ میرا پہلا تعارف تھا اور یہ سن تھا 1993۔
پروفیسر صاحب نے اگلے دن ڈیسک پر آنا شروع کر دیا، زندگی میں انھوں نے کبھی اخبار میں کام نہیں کیا تھا، ان کی انگریزی اور اردو دونوں بہت اچھی تھیں لیکن یہ اخباری زبان نہیں جانتے تھے، میں نے انھیں ترجمے پر لگا دیا، صبح ان کے سامنے انگریزی رسالوں اور خبروں کا ڈھیر لگا کر انھیں ترجمے کا کام سونپ دیتا تھا لیکن پروفیسر صاحب کا کمال تھا ہم جب تک پاکستان اخبار میں رہے انھوں نے کبھی اپنا کام مکمل نہیں کیا۔
یہ بے چارے کر بھی لیتے لیکن جوان بیوہ کی طرح کوئی انھیں سکون سے بیٹھنے نہیں دیتا تھا، کبھی انھیں بھٹی صاحب طلب کر لیتے تھے اور کبھی ان کا کوئی دوست اپنے معاشقے کے بارے میں اصلاح کے لیے ان کے پاس آ جاتا تھا، لوگ انھیں رات رات بھر جگائے رکھتے تھے۔
صبح ان کی حالت خراب ہوتی تھی، دوسرا یہ ساٹھ باسٹھ سال کے بزرگ تھے، ان کی مصروفیات ان کی عمر سے زیادہ تھیں اور تیسرا یہ کام ان کا پیشن نہیں تھا مجبوری تھی، وہ صرف تین ہزار روپے تنخواہ کے لیے دفتر آتے تھے، مجھے بعدازاں پتا چلا یہ تین ہزار ان کے خاندان کا کل گزارہ تھا، وہ یہ رقم گھر بھجوا دیتے تھے اور خود اکبر علی بھٹی جیسے لوگوں کے رحم و کرم پر رہتے تھے، لوگ ان سے روز فائدہ اٹھاتے تھے، یہ انھیں لے کر کسی نہ کسی بیوروکریٹ یا وزیر کے پاس چلے جاتے تھے، سارا دن ان سے زائچہ بنواتے تھے اور شام کے وقت انھیں بھوکا پیاسا دفتر چھوڑ جاتے تھے اور یہ بے چارے ہمارا بچہ ہوا کھانا کھاتے تھے۔
انھیں لے جانے والے بیوروکریٹس اور وزیروں سے کروڑوں روپے کے فائدے لے لیتے تھے جب کہ پروفیسر صاحب خالی ہاتھ اور خالی جیب رہ جاتے تھے، مجھے بہت جلد صورت حال کا اندازہ ہوگیا، اس دوران پروفیسر صاحب میرے گھر بھی تشریف لائے اور میرے بیٹے اور میری بیوی کے سر پر ہاتھ رکھ کر ان کے بزرگ بن گئے چناں چہ میری بیوی روز میرے ساتھ ان کا کھانا بھی پیک کر دیتی تھی، ہم اکثر اکٹھے کھانا کھاتے تھے اور جس دن پروفیسرصاحب کو ان کا کوئی مہربان لے جاتا تھا تو میں ان کا کھانا دفتر چھوڑ جاتا تھا اور پروفیسر صاحب واپسی پر وہی کھانا کھا کر گھر جاتے تھے۔
جاری ہے۔۔